#مسجد_نمرہ_عرفات #خطبہء_حج 🕋 شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد سعید نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تفرقہ ڈالنے سے منع کیا ہے! شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد سعید نے خطبہ حج میں کہا ہے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے تفرقہ ڈالنے سے منع کیا، انسانوں کو تقویٰ اختیار کرنا چاہیے، کبھی بھی کسی معاملے پر کسی دوسرے معبود کو نہ پکارا جائے، مصیبت اور پریشانی میں اللہ تعالیٰ سے رجوع کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے نیک اعمالوں کی وجہ سے ان کو ہدایت عطا کی، حاکمیت اور حقیقی حکمرانی اللہ تعالیٰ کی ذات کی ہے، جوانسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا، انسان اللہ سے ڈر کر زندگی بسر کرے، ان باتوں سے انسان کو رکنا چاہیے جس میں اللہ کی ناراضگی ہے۔ امام نمرہ شیخ یوسف نے کہا ہے کہ وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیتے ہیں، اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے آپ اللہ کو دیکھ رہے ہیں، ایمان والے لغویات میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے، ایمان والے لوگ اپنی شہوات کے پجاری نہیں بنتے، انسان کو...
عید کا پاجامہ. ایک مزاحیہ نظم____ 😁 اک آدمی نے ڈانٹا جو درزی کی ذات کو کرتہ پاجامہ آ ھی گیا چاند رات کو دیکھا پہن کے جب اسے کرتہ تو ٹھیک تھا پاجامہ پر لگا انہیں تین 3 اینچ کچھ بڑا بیگم سے بولے آج میرا کام یہ کرو تین 3 انچ کاٹ کر اسے بس ٹھیک سے سی دو بیگم یہ بولی دیکھئیے فرصت کہاں مجھے کل عید ھے اور آج بڑا کام ھے سر پے بیٹی جو بڑی سامنے آئی اسے کہا مہندی کا مگر اس نے بہانا بتا دیا یوں چار بیٹیوں سے بھی جب بات نہ بنی کرتے بھی کیا ، کسی سے بھی امید نہ رھی خود ھی پجاما کاٹ کے پھر سی دیا اسے اور پھر وہ جناب بے فکر سو گئے بیگم بچاری کام سے فارغ ھوئی ذرا پاجامہ کی سلائی کا تب دھیان آگیا ناراض ھو نہ جائیں میاں کوئی بات پر پاجامہ ٹھیک کر دیا نیچے سے کاٹ کر دھویا جو بڑی بیٹی نے مہندی بھرے وہ ھاتھ پاجامہ چھوٹا کر دیا پھر خوشدلی کے ساتھ جس جس کو جب بھی وقت ملا سب نے دیکھئیے پاجامہ چھوٹا کر کے وہیں سب نے رکھدئیے یوں رات بھر سبھی تھے پجامے پے مہربان کہتا بھی کیا کسی سے وہ معصوم و بے زبان پاجامہ کی تھی صبح کو درگت عجیب سی کرتہ پے اک سفید تھی...
╭═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╮ 🌹 دل کو جلاتاہے 📚 ╰═✺═༻•❁❀❀❁•༺═✺═╯ ﷽ 💞 نَحْمَدُہُ وَ نُصَلّیِ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمْ 💞 📚☜ ایک کنجوس شخص روٹی اور شہد لیکر کھانے بیٹھا تو عین اسی وقت دروازے پر کوئی مہمان آدھمکا، کنجوس نے روٹی اٹھا کر ایک طرف رکھ دی اور پھر اس سے پہلے کہ وہ شہد بھی غائب کرتا مہمان دروازہ کھول کر اندر آپہنچا مہمان کے بیٹھ جانے کے بعد کنجوس نے کہا روٹی کے بغیر آپ شہد چاٹنا پسند کریں گے مہمان نے کہا کیوں نہیں پھر آؤ دیکھا نہ تاؤ انگیوں سے شہد چاٹنا شروع کردیا، کنجوس شخص اسے یوں بے دردی سے شہد کا صفایا کرتا دیکھ کر ضبط کر سکا اور بول پڑا آپ کو معلوم ہے کہ خالی شہد دل کو جلاتاہے مہمان نے جستہ جواب دیا جی ہاں مگر آپ کے دل کو [ ص ۱۹۵] ✧═════•❁❀❁•═════✧ 📜☜ مزید ایسی پوسٹیں حاصل کرنے کیلئے ہم...
Comments
Post a Comment